نئی دہلی،17؍نومبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ہندوستان اور پاکستان کے رشتے اگرچہ تلخ رہتے ہوں، مگر جب جب بھی پاکستانی شہریوں نے حکومت ہند سے میڈیکل ویزاکی فریاد کی ہے، تب تب ہندوستانی وزیر خارجہ سشما سوراج نے آگے بڑھ کر پاکستانی شہریوں کو میڈیکل ویزا دستیاب کروایا ہے۔ہر بار کی طرح ایک بار پھر ہندوستان نے جمعہ کو ایک اور پاکستانی شہری کو میڈیکل ویزا دینے کی یقین دہانی کرائی۔یہ شہری ہندوستان میں ایک اسپتال میں علاج کرا رہے پاکستانی ساتھی کو اپنا گردہ عطیہ کرناچاہتا ہے۔وزیر خارجہ سشما سوراج نے فیض ملک کے جواب میں ٹویٹ کیا کہ فکر نہ کریں۔میں ہندوستانی ہائی کمیشن سے دوسرے ڈونر کے لئے ویزا دینے کے بارے میں کہہ رہی ہوں۔فیض ملک نے کہا کہ ان کے بھتیجے فرازملک کا فورٹس اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔آگے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹروں نے پہلے ڈونر کو انکار کر دیا اور اب نئے ڈونر عبدالرزاق کے لئے ایک ویزا کی ضرورت ہے۔بتا دیں کہ ملک کے یوم آزادی پر وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ ہندوستان تمام مصدقہ پاکستانی مریضوں کو طبی ویزا دے گا۔ہندوستان نے اسی سال مئی میں کہا تھا کہ وہ صرف پاکستان کے اس وقت کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز کی سفارش پر ہی پاکستانی شہریوں کو طبی ویزا مہیا کرائے گا۔پاکستان نے اس کارروائی کو انتہائی افسوسناک بتایا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کا خط سفارتی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس طرح کا مطالبہ کسی اور ملک کی طرف نہیں کیاگیاہے تاہم اس کے بعد نئی دہلی میں جگر کے ٹیومر کا علاج کرانے کے لئے پاکستان کے قبضے والے ایک کشمیری مریض کو 18جولائی کو ویزا دیا گیا تھا۔اس وقت وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ اس کے لئے پاکستان حکومت کے سفارشی خط کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ علاقہ ہندوستان کا حصہ ہے۔